26 اگست 2026 - 17:54
ٹرمپ کی ایران کے خلاف اقتصادی جنگ سے امریکی مارکیٹ پر دباؤ مزید بڑھ گیا

  امریکی اخبار پولیٹیکو نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی نئی اقتصادی پابندیاں امریکی معیشت اور مالیاتی منڈیوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اخبار پولیٹیکو نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی نئی اقتصادی پابندیاں امریکی معیشت اور مالیاتی منڈیوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ ایک ایسے وقت میں اقتصادی چیلنجز سے نمٹ رہے ہیں جب امریکی طویل مدتی ٹریژری بانڈز پر شرحِ سود میں اضافہ اور حکومتی مالیاتی پالیسیوں پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

پولیٹیکو کے مطابق ایران کے خلاف نئی پابندیوں اور اقتصادی دباؤ کی مہم نے امریکی حکومت کے لیے ایک نیا محاذ کھول دیا ہے۔ واشنگٹن نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک اور اداروں پر بھی دباؤ بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ اور اس سے پیدا ہونے والی کشیدگی نے عالمی تیل کی منڈی کو متاثر کیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے امریکا میں مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں شرحِ سود میں کمی کی توقعات بھی متاثر ہوتی ہیں۔

اس صورتحال کے باعث امریکی حکومت کو بیک وقت کئی اقتصادی محاذوں پر توجہ دینا پڑ رہی ہے، جن میں بانڈ مارکیٹ، عالمی کرنسیوں اور ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ شامل ہیں۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر تیل کی قیمتیں مسلسل بلند رہیں تو اس سے امریکی حکومت اور نجی شعبے کے لیے قرض لینے کی لاگت میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی اخبار دی ٹیلی گراف نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کی ایران کے خلاف اقتصادی مہم پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کی نئی پابندیاں ایران کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے کے بجائے خود امریکا کے لیے سیاسی اور اقتصادی مشکلات میں اضافہ کر سکتی ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha